بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ واشنگٹن کے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں مغربی ایشیا کے ماہر، مائیکل ریٹنی (Michael Ratney)، کہتے ہیں کہ انصاراللہ ایک آزاد انقلابی اسلامی تحریک ہے جو ایران یا محورِ مزاحمت کے دباؤ میں فیصلے نہیں کرتی۔ یہی خودمختاری سعودی عرب کے لئے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔
سعودی عرب کی تزویراتی الجھن
ریٹنی کے مطابق، ریاض ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے ڈرتا تھا اور امریکہ بھی یمن میں نیا محاذ کھولنے سے کتراتا ہے؛ لیکن انصاراللہ نے یمن کی طویل بحری اور فضائی ناکہ بندی توڑنے کے لئے فعال کردار ادا کیا، جس سے سعودی عرب دوہرے مخمصے میں پھنس گیا:
1۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم بھی ہو جائے تو انصاراللہ کے حملے جاری رہ سکتے ہیں۔
2۔ مکمل امریکی حمایت کے بغیر سعودی عرب یمنی مقاومت کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
ناکہ بندی اور بحری محاذ
ریٹنی بتاتے ہیں کہ صنعاء کی فضائی ناکہ بندی ٹوٹ چکی ہے اور ایران-صنعاء براہِ راست پروازیں شروع ہو گئی ہیں۔ صنعاء اور حدیدہ کے رن ویز پر بمباری) کے نتیجے میں، انصار اللہ یمن نے سعودی عرب کے ابھا ہوائی اڈے اور پھر بحیرۂ احمر میں سعودی تیل کے دو ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔
اس کا سب سے بڑا اثر یہ ہؤا کہ باب المندب - جو سعودی تیل کی 80 فیصد برآمدات کا راستہ ہے - اب خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔ اس طرح انصاراللہ نے آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں باریک بحری راستوں کو بیک وقت دباؤ میں لے لیا، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی متاثر ہوئی۔
انصاراللہ کی آزاد شناخت
ریٹنی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انصاراللہ کو ایران کا "پراکسی" نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ ایک مذہبی، انقلابی اور خودمختار قوت ہے جس کے اپنے مقاصد اور فیصلے ہیں۔ چاہے ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی بھی معاہدہ ہو، انصاراللہ خود کو اس کا پابند نہیں سمجھے گا؛ جس سے یہ جنگ کے فارمولے میں ایک غیرمتوقع عنصر بن گیا ہے۔

سعودی عرب بےیار و مددگار
ریٹنی کے مطابق، سعودی عرب چاہتا ہے کہ امریکہ اس کی مدد کرے، لیکن وہ جانتا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں نیا محاذ کھولنے پر آمادہ نہیں ہے۔ خود ساختہ بحری اتحاد بھی ـ جس میں بہت سے ممالک کے پاس مؤثر بحری صلاحیت نہیں ہے ـ بھی بالکل بےاثر ہے۔
نتیجتاً، سعودی عرب ایک دو راہے پر پھنس کر رہ گیا ہے:
• یا تو وہ خود یمن میں فوجی کارروائی کرے (جو امریکی حمایت کے بغیر ناکام ہے)۔
• یا پھر یمن کے حملے برداشت کرے اور اقتصادی اور سیکیورٹی نقصانات کا متحمل ہوتا رہے۔
نتیجہ
ریٹنی کہتے ہیں کہ سعودی عرب کا اصل خوف یہ تھا کہ ایران اس کے بنیادی ڈھانچے (تیل، پانی، توانائی) کو تباہ کر دے گا، اور امریکہ اس نقصان کو اپنی جنگی حکمت عملی میں اہمیت نہیں دے گا۔ اب انصاراللہ کی مداخلت نے یہ خوف مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ یہ تحریک ایران کے دائرے سے باہر ہے اور اسے کسی واشنگٹن-تہران معاہدے سے نہیں روکا جا سکتا۔
سعودی عرب اب ایک ایسی جنگ کے غیرمتوقع نتائج بھگت رہا ہے جس میں وہ [بظاہر] خود کو ملوث نہیں کرنا چاہتا تھا؛ [گوکہ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کے محاذ میں شامل ہونے اور مقاومت کے ایک بازو ـ یعنی یمن ـ کو مصروف کرنے کی غرض سے ـ یمنیوں کے رد عمل کا اندازہ لگائے بغیر ـ یمن پر حملہ کرکے اس ملک کے ساتھ اپنی جنگ بندی کا خاتمہ کر دیا تھا اور وہ اپنے کئے کا خمیازہ بھگت رہا ہے، مقاومت کا یہ بازو فعال ہو گیا ہے، محاذ مقاومت مضبوط تر ہو گیا ہے اور جو کچھ اسلامی جمہوریہ ایران نے آبنائے ہرمز میں شروع کر دیا تھا، یمن نے اسے مکمل کر دیا ہے اور امریکہ کے لئے جنگ کی لاگت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ